بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کی سپریم کونسل کے سربراہ آیت اللہ محمد حسن اختری نے دنیا کی با اثر شخصیات کے نام اپنے اہم پیغام میں لکھا: مید ہے کہ آپ اس اعلیٰ اسلامی اور معاشرتی مرتبے کی رو سے، جو آپ کو حاصل ہے، تَفَضُّل کریں گے اور اسلام کے تمام تقدیر ساز مسائل ـ منجملہ اسلام اور ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونیت کی مکارانہ جارحیت، جس کا مقصد ایران کی تقسیم اور شکست و ریخت اور اسلام اور مسلمانوں کے وجود پر ضرب لگانا ہے ـ کے سلسلے میں حمایت پر مبنی موقف اپنائیں گے اور جس طرح کہ آپ مصلحت سمجھتے ہیں، اقدام فرمائیں گے۔
پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
﴿أُذِنَ لِلَّذينَ يُقاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إنَّ اللهَ عَلي نَصْرِهِمْ لَقَديرٌ﴾
﴿ان لوگوں کو جہاد کی اجازت دی جاتی ہے جن پر جنگ مسلط کی گئی ہے؛ کیونکہ ان پر ظلم ہؤا ہے، اور بلاشبہ اللہ ان کی مدد پر قادر ہے﴾ (سورہ حج، آیت 39۔)
اصحاب فضیلت، علمائے اعلام، عالی قدر راہنماؤں اور پوری دنیا کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تنظیموں کے سربراہوں کی خدمت میں؛
پیارے بھائیو، عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کے ارکان اور تمام محترم مبلغین کی خدمت میں؛
معززین، اہل بیت (علیہم السلام) کے محبین اور ساتھیوں اور پوری دنیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے حامیوں کی خدمت میں؛
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
غم و افسوس سے مالامال دلوں کے ساتھ، رہبر مجاہد، فقیہ جامع الشرائط اور مرجع معظم امام سید علی حسینی خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ)، نیز بے گناہ خواتین اور بچوں، سیاسی اور فوجی شخصیات کی شہادت پر خالصانہ ترین تعزیت، ہمدردی اور مقدس غضب کا اظہار کرتے ہیں؛ جیسا کہ ہم وحشی صہیونی ریاست اور امریکہ کی مسستکبر اور بے لگام امریکہ کے ان شرمناک دہشت گردانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہیں جو وہ اسلامی جمہوریہ ایران، لبنان اور عراق کے خلاف مرتکب ہوئے ہیں؛ وہ اقدامات جو تمام تر دینی اور اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق اور بین الاقوامی معاہدوں میں مندرجہ اصولوں کی کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
مؤمن بھائیو!
اس عظیم چیلنج کے دوران جو امت اسلامیہ کو سامنا کرنا پڑا ہے، اور اسلامی جمہوریہ ایران اور مقاومت اسلامی پر شدید دباؤ اور عالمی استکبار کے براہ راست حملوں کے پیش نظر، آگاہی اور بصیرت اور اتحاد و یکجہتی نیز فداکار مجاہدین اور بہادر محور مقاومت کی پشت پناہی کی ضرورت پر تاکید کرتے ہیں۔
نیز، اس لئے کہ آپ کے دلوں کو سکون پہنچے، آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ نئے اور معظم زعیم حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی قیادت، قرآنی اصولوں پر مبنی استقامت، حکیمانہ راہنمائی، مکتب مقاومت و مزاحمت سے تمسک و اعتصام، تسلط پسندی اور جبر و ستم کی نفی کا اعلیٰ نمونہ ہے، اور ان کی صدا، طغیان اور ظلم و ستم کے خلاف مستضعفینِ عالم کی صدا، اور ان کی قیادت احرار عالم کے لئے چراغ راہ ہوگی۔
اس حقیقت کی روشنی میں، ایران بڑے شیطان اور غاصب صہیونی دشمن کے مقابلے میں مقاومت و مزاحمت کی راہ پر گامزن ہے، اور یہ بعض سازباز کرنے والے اجرتی عرب حکومت کے موقف کے خلاف ہے جنہوں نے اپنے تمام تر وسائل جارح دشمن کی خدمت میں جھونک دیئے؛ یہاں تک کہ ان کی سرزمین کو ایران کی مسلم قوم کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران صہیونیوں کے جابرانہ رویوں اور امریکہ کی بزدلانہ جارحیتوں کے کے مقابلے میں، ـ "جائز دفاع کے حق (Legitimate Right of Defense)" کے اصول کے تحت اپنی عزت و وقار، سرزمین اور شرافت کا دفاع کرتا ہے اور بعض پڑوسی ممالک کی سرزمین میں واقع امریکی اڈوں سے ہونے والی مسلسل جارحیتوں کا جواب دیتا رہے گا۔
ایران کا نشانہ پڑوسی مسلم اقوام نہیں ہیں؛ جیسا کہ آیت کریمہ میں ارشادہ ہوتا ہے: ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّابِرِينَ؛ اور اگر تم سزا دو تو ویسی ہی سزا دو جیسے کہ تم سزا دی گئی ہے اور اگر صبر کرو تو یقینا وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہتر ہے﴾. (سورہ نحل، آیت 126)۔
اسی بنیاد پر، آپ علمائے فاضل، اور امت کے راہنماؤں کو دعوت دیتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی اس ندا کو لبیک کہیں کہ "مَنْ سَمِعَ رَجُلاً يُنَادِي يَا لِلْمُسْلِمِينَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَيْسَ بِمُسْلِمٍ؛ جو سن لے کہ کوئی شخص فریاد کر رہا ہے کہ اے مسلمانو میری مدد کو آؤ، اور اس کو جواب نہ دے، وہ مسلمان نہیں ہے۔"
چنانچہ ان حساس اور تقدیر ساز حالات میں میں آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ صہیونی ـ امریکی جارحیت کے مقابلے میں ـ جنہوں نے اسلام کے وجود اور تمام مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہؤا ہے ـ اصولی اور شجاعانہ موقف اختیار کریں۔
اس درخواست پر آپ کا مثبت جواب، محض ایک سیاسی موقف نہیں ہے، بلکہ ایک ایمانی میثاق ہے جو امت اسلامی کی وحدت، مظلوموں کے دفاع اور تسلط پسندانہ اور استکباری منصوبوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت سے، جنم لیتا ہے۔ آپ کی حمایت اور پشت پناہی، درحقیقت اسلام، مقاومت اور انسانی عظمت و وقار کی حمایت ہے جس کی راہ میں کے گناہ شہیدوں کا خون بہایا گیا ہے۔
لہٰذا، ہمیں امید ہے کہ آپ اس اعلیٰ اسلامی اور معاشرتی مرتبے کی رو سے، جو آپ کو حاصل ہے، تَفَضُّل کریں گے اور اسلام کے تمام تقدیر ساز مسائل ـ منجملہ اسلام اور ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونیت کی مکارانہ جارحیت، جس کا مقصد ایران کی تقسیم اور شکست و ریخت اور اسلام اور مسلمانوں کے وجود پر ضرب لگانا ہے ـ کے سلسلے میں حمایت پر مبنی موقف اپنائیں گے اور جس طرح کہ آپ مصلحت سمجھتے ہیں، اقدام فرمائیں گے۔
خدائے متعال سے التجا کرتے ہیں کہ آپ کی حفاظت فرمائے، آپ کے قدموں کو ثابت و استوار رکھے اور آپ کو امت اسلامیہ کے لئے ذخیرہ قرار دے۔
تکریم و احترام کے ساتھ
محمد حسن اختری
سربرہ سپریم کونسل
عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ